Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Isra 17:100

17:100
قل لو انتم تملكون خزاين رحمة ربي اذا لامسكتم خشية الانفاق وكان الانسان قتورا ١٠٠
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًۭا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ قَتُورًۭا ١٠٠
قُل
لَّوۡ
أَنتُمۡ
تَمۡلِكُونَ
خَزَآئِنَ
رَحۡمَةِ
رَبِّيٓ
إِذٗا
لَّأَمۡسَكۡتُمۡ
خَشۡيَةَ
ٱلۡإِنفَاقِۚ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
قَتُورٗا
١٠٠
Say ˹to them, O  Prophet˺, “Even if you were to possess the ˹infinite˺ treasuries of my Lord’s mercy, then you would certainly withhold ˹them˺, fearing they would run out—for humankind is ever stingy!”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

بخل اور کنجوسی کی یہ حد ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ اس قدر بخیل ہیں کہ اگر سمندر پر بھی بیٹھے ہوں تو ان کو پانی کی کمی نظر آتی ہے۔ اس طرح ان کو اللہ کی رحمت میں بھی کمی نظر آتی ہے۔

بہرحال اگر ان کے سامنے وہ معجزات کثرت سے بھی لائے جائیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، ان کے دل چونکہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اس لئے یہ نہ مانیں گے۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ 9 بڑے معجزات دئیے گئے ، مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے مان کر نہ دیا۔ اس لئے اس پر تباہی آئی۔