Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Jathiyah 45:10

45:10
من ورايهم جهنم ولا يغني عنهم ما كسبوا شييا ولا ما اتخذوا من دون الله اولياء ولهم عذاب عظيم ١٠
مِّن وَرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِى عَنْهُم مَّا كَسَبُوا۟ شَيْـًۭٔا وَلَا مَا ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ١٠
مِّن
وَرَآئِهِمۡ
جَهَنَّمُۖ
وَلَا
يُغۡنِي
عَنۡهُم
مَّا
كَسَبُواْ
شَيۡـٔٗا
وَلَا
مَا
ٱتَّخَذُواْ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
أَوۡلِيَآءَۖ
وَلَهُمۡ
عَذَابٌ
عَظِيمٌ
١٠
Awaiting them is Hell. Their ˹worldly˺ gains will not be of any benefit to them whatsoever, nor will those protectors they have taken besides Allah. And they will suffer a tremendous punishment.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 45:6 to 45:11
قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں، نہ عمل کرتے ہیں، تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے؟ ان کے لیے «ویل» ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے، کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں، اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر، انکار اور بدباطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں، انہیں سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے، قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔

حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بے قدری کریں ۔ [صحیح بخاری:2990] ‏

پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے۔ پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لیے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8394