Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Jumu'ah 62:5

62:5
مثل الذين حملوا التوراة ثم لم يحملوها كمثل الحمار يحمل اسفارا بيس مثل القوم الذين كذبوا بايات الله والله لا يهدي القوم الظالمين ٥
مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًۢا ۚ بِئْسَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٥
مَثَلُ
ٱلَّذِينَ
حُمِّلُواْ
ٱلتَّوۡرَىٰةَ
ثُمَّ
لَمۡ
يَحۡمِلُوهَا
كَمَثَلِ
ٱلۡحِمَارِ
يَحۡمِلُ
أَسۡفَارَۢاۚ
بِئۡسَ
مَثَلُ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِ
ٱللَّهِۚ
وَٱللَّهُ
لَا
يَهۡدِي
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٥
The example of those who were entrusted with ˹observing˺ the Torah but failed to do so, is that of a donkey carrying books.1 How evil is the example of those who reject Allah’s signs! For Allah does not guide the wrongdoing people.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم ٭٭

ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی گئی اور عمل کرنے کے لیے انہوں نے اسے لیا پھر عمل نہ کیا، فرمایا جاتا ہے کہ ان کی مثال گدھے کی سی ہے کہ اگر اس پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے؟ اسی طرح یہ یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس دراصل یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین ہیں، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔

اسی لیے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [7-الاعراف:179] ‏ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے، یہ غافل لوگ ہیں۔ یہاں فرمایا اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں کی بری مثال ہے، ایسے ظالم اللہ کی رہنمائی سے محروم رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر9504

«وَقَالَ الْإِمَام أَحْمَد رَحِمَهُ اللَّه حَدَّثَنَا اِبْن نُمَيْر عَنْ مُجَالِد عَنْ الشَّعْبِيّ عَنْ اِبْن عَبَّاس قَالَ: قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ تَكَلَّمَ يَوْم الْجُمُعَة وَالْإِمَام يَخْطُب فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَار يَحْمِل أَسْفَارًا وَاَلَّذِي يَقُول لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمْعَة“» مسند احمد میں ہے جو شخص جمعہ کے دن امام کے خطبہ کی حالت میں بات کرے، وہ مثل گدھے کے ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو اور جو اسے کہے کہ چپ رہ اس کا بھی جمعہ جاتا رہا۔ [مسند احمد:230/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9505