Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Kahf 18:80

18:80
واما الغلام فكان ابواه مومنين فخشينا ان يرهقهما طغيانا وكفرا ٨٠
وَأَمَّا ٱلْغُلَـٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَآ أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَـٰنًۭا وَكُفْرًۭا ٨٠
وَأَمَّا
ٱلۡغُلَٰمُ
فَكَانَ
أَبَوَاهُ
مُؤۡمِنَيۡنِ
فَخَشِينَآ
أَن
يُرۡهِقَهُمَا
طُغۡيَٰنٗا
وَكُفۡرٗا
٨٠
“And as for the boy, his parents were ˹true˺ believers, and we1 feared that he would pressure them into defiance and disbelief.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 18:80 to 18:81
اللہ کی رضا اور انسان ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس نوجوان کا نام جیسور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ [صحیح مسلم:2661] ‏ خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے، حالانکہ اس کی زندگی ان کے لیے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہیئے کہ اللہ کی قضاء پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لیے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جو اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں، وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد:117/3:صحیح] ‏ قرآن کریم میں ہے «وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [ 2-البقرہ: 216 ] ‏ یعنی بہت ممکن ہے کہ ایک کام تم اپنے لیے برا اور ضرر والا سمجھتے ہو اور وہی دراصل تمہارے لیے بھلا اور مفید ہو۔

خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم نے چاہا کہ اللہ انہیں ایسا بچہ دے جو بہت پرہیزگار ہو اور جس پر ماں باپ کو زیادہ پیار ہو۔ یا یہ کہ جو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہو۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس لڑکے کے بدلے اللہ نے ان کے ہاں ایک لڑکی دی۔ مروی ہے کہ اس بچے کے قتل کے وقت اس کی والدہ کے حمل سے ایک مسلمان لڑکا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔

صفحہ نمبر4964