Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: An-Nahl 16:48

16:48
اولم يروا الى ما خلق الله من شيء يتفيا ظلاله عن اليمين والشمايل سجدا لله وهم داخرون ٤٨
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلَـٰلُهُۥ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدًۭا لِّلَّهِ وَهُمْ دَٰخِرُونَ ٤٨
أَوَلَمۡ
يَرَوۡاْ
إِلَىٰ
مَا
خَلَقَ
ٱللَّهُ
مِن
شَيۡءٖ
يَتَفَيَّؤُاْ
ظِلَٰلُهُۥ
عَنِ
ٱلۡيَمِينِ
وَٱلشَّمَآئِلِ
سُجَّدٗا
لِّلَّهِ
وَهُمۡ
دَٰخِرُونَ
٤٨
Have they not considered how the shadows of everything Allah has created incline to the right and the left ˹as the sun moves˺, totally submitting to Allah in all humility?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 16:48 to 16:50
عرش سے فرش تک ٭٭

اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» السجدہ [13-الرعد:15] ‏، ” خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں “۔

فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4460