Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: An-Nahl 16:70

16:70
والله خلقكم ثم يتوفاكم ومنكم من يرد الى ارذل العمر لكي لا يعلم بعد علم شييا ان الله عليم قدير ٧٠
وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَىْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍۢ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۭ قَدِيرٌۭ ٧٠
وَٱللَّهُ
خَلَقَكُمۡ
ثُمَّ
يَتَوَفَّىٰكُمۡۚ
وَمِنكُم
مَّن
يُرَدُّ
إِلَىٰٓ
أَرۡذَلِ
ٱلۡعُمُرِ
لِكَيۡ
لَا
يَعۡلَمَ
بَعۡدَ
عِلۡمٖ
شَيۡـًٔاۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمٞ
قَدِيرٞ
٧٠
Allah has created you, and then causes you to die. And some of you are left to reach the most feeble stage of life so that they may know nothing after having known much. Indeed, Allah is All-Knowing, Most Capable.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
بہترین دعا ٭٭

تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پچھتر سال کی عمر میں عموماً انسان ایسا ہی ہو جاتا ہے طاقت ختم ہو جاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ علم کی کمی ہو جاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہو جاتا ہے۔‏“

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَأَعُوذ بِك مِنْ الْبُخْل وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَأَرْذَل الْعُمُر وَعَذَاب الْقَبْر وَفِتْنَة الدَّجَّال وَفِتْنَة الْمَحْيَا وَالْمَمَات» یعنی اے اللہ میں بخیلی سے، عاجزی سے، بڑھاپے سے، ذلیل عمر سے، قبر کے عذاب سے، دجال کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4707] ‏

زہیر بن ابوسلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔

صفحہ نمبر4487