Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: An-Naml 27:25

27:25
الا يسجدوا لله الذي يخرج الخبء في السماوات والارض ويعلم ما تخفون وما تعلنون ٢٥
أَلَّا يَسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ٢٥
أَلَّاۤ
يَسۡجُدُواْۤ
لِلَّهِ
ٱلَّذِي
يُخۡرِجُ
ٱلۡخَبۡءَ
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَيَعۡلَمُ
مَا
تُخۡفُونَ
وَمَا
تُعۡلِنُونَ
٢٥
so they do not prostrate to Allah, Who brings forth what is hidden in the heavens and the earth, and knows what you ˹all˺ conceal and what you reveal.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 27:20 to 27:26

سبا (Sabaeans) قدیم زمانہ کی ایک دولت مند قوم تھی۔ اس کا زمانہ 1100 ق م سے لے کر 115 ق م تک ہے۔ اس کا مرکز مارب (یمن) تھا۔ اس علاقہ میں آج بھی اس کے شاندار کھنڈر پائے جاتے ہیں۔حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہاں ایک عورت (بلقیس) کی حکومت تھی۔ یہ لوگ سورج کی پرستش کرتے تھے۔ شیطان نے انھیں سکھایا کہ معبود وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہو۔ سورج چوں کہ تمام دکھائی دینے والی چیزوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اس ليے وہی اس قابل ہے کہ اس کو معبود سمجھا جائے اور اس کی پرستش کی جائے۔

ہدہد کے ذریعہ حضرت سلیمان کو قوم سبا کے بارے میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ ہدہد غالباً آپ کی پرندوں کی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا۔