Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: An-Naml 27:28

27:28
اذهب بكتابي هاذا فالقه اليهم ثم تول عنهم فانظر ماذا يرجعون ٢٨
ٱذْهَب بِّكِتَـٰبِى هَـٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَٱنظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ٢٨
ٱذۡهَب
بِّكِتَٰبِي
هَٰذَا
فَأَلۡقِهۡ
إِلَيۡهِمۡ
ثُمَّ
تَوَلَّ
عَنۡهُمۡ
فَٱنظُرۡ
مَاذَا
يَرۡجِعُونَ
٢٨
Go with this letter of mine and deliver it to them, then stand aside and see how they will respond.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 27:27 to 27:35

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔