تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ٢١:٧٥

٢١:٧٥
وتذرون الاخرة ٢١
وَتَذَرُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ٢١
وَتَذَرُونَ
ٱلۡأٓخِرَةَ
٢١
ليس الأمر كما زعمتم- يا معشر المشركين- أن لا بعث ولا جزاء، بل أنتم قوم تحبون الدنيا وزينتها، وتتركون الآخرة ونعيمها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:20إلى 75:21

انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔

لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا نہایت ہی لطیف اور گہرا اشارتی ہم آہنگی ہے اور یہ قرآنی انداز کلام ہے۔