Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Ahzab 33:38

33:38
ما كان على النبي من حرج فيما فرض الله له سنة الله في الذين خلوا من قبل وكان امر الله قدرا مقدورا ٣٨
مَّا كَانَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ مِنْ حَرَجٍۢ فِيمَا فَرَضَ ٱللَّهُ لَهُۥ ۖ سُنَّةَ ٱللَّهِ فِى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًۭا مَّقْدُورًا ٣٨
مَّا
كَانَ
عَلَى
ٱلنَّبِيِّ
مِنۡ
حَرَجٖ
فِيمَا
فَرَضَ
ٱللَّهُ
لَهُۥۖ
سُنَّةَ
ٱللَّهِ
فِي
ٱلَّذِينَ
خَلَوۡاْ
مِن
قَبۡلُۚ
وَكَانَ
أَمۡرُ
ٱللَّهِ
قَدَرٗا
مَّقۡدُورًا
٣٨
There is no blame on the Prophet for doing what Allah has ordained for him. That has been the way of Allah with those ˹prophets˺ who had gone before. And Allah’s command has been firmly decreed.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم ٭٭

فرماتا ہے کہ ” جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا “۔

اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔

صفحہ نمبر7042