تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنبياء ١٠١:٢١

١٠١:٢١
ان الذين سبقت لهم منا الحسنى اولايك عنها مبعدون ١٠١
إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا ٱلْحُسْنَىٰٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ١٠١
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
سَبَقَتۡ
لَهُم
مِّنَّا
ٱلۡحُسۡنَىٰٓ
أُوْلَٰٓئِكَ
عَنۡهَا
مُبۡعَدُونَ
١٠١
إن الذين سبقت لهم منا سابقة السعادة الحسنة في علمنا بكونهم من أهل الجنة، أولئك عن النار مبعدون، فلا يدخلونها ولا يكونون قريبًا منها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 21:101إلى 21:102

ان الذین سبقت ……خلدون (21 : 102) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے۔ اس کی سرسراہٹ تک نہ نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ من بھاتی چیزوں میں رہیں گے۔ ‘ لفظ حسبھا ان الفاظ میں سے ہے جو اپنے صوتی ترنم سے اپنے مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لفظ آگ کی اس آواز کو ظاہر کرتا ہے جو جلتی ہے اور جلاتی ہے اور سر سر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے کہ اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس پر اس کے بارے میں سوچتے ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان جن کے بارے میں اچھا فیصلہ صادر ہوچکا ہے اس آواز کو بھی نہ سنیں گے۔ دیکھیں گے بھی نہیں کیونکہ وہ اس دن کے عظیم جزع و فزع سے نجات پا چکے ہیں۔ وہ ایسے باغات میں ہوں گے جن میں ان کو متام مرغوبات فراہم ہوں گی۔ ملائکہ انہیں ہر طرف سے اچھا کہیں گے اور ان کے ساتھ رہیں گے تاکہ یہ لوگ اس دن کے خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں۔