تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنبياء ٥٩:٢١

٥٩:٢١
قالوا من فعل هاذا بالهتنا انه لمن الظالمين ٥٩
قَالُوا۟ مَن فَعَلَ هَـٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٥٩
قَالُواْ
مَن
فَعَلَ
هَٰذَا
بِـَٔالِهَتِنَآ
إِنَّهُۥ
لَمِنَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٥٩
ورجع القوم، ورأوا أصنامهم محطمة مهانة، فسأل بعضهم بعضًا: مَن فعل هذا بآلهتنا؟ إنه لظالم في اجترائه على الآلهة المستحقة للتعظيم والتوقير.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قالوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ لمن الظلمین (95) ” ۔ اب ان لوگوں کو بات یاد آئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کے بارے میں اپنے باپ سے بھی جھگڑا کیا ہے۔ باپ کے سوا دوسرے لوگوں سے بھی انہوں نے کہا ہے کہ ان مورتیوں کی پرستش تم کیوں کرتے ہو اور پھر انہوں نے بتایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جب لوگ چلے جائیں گے تو میں ان کی خبر لوں گا۔