تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنبياء ٦٤:٢١

٦٤:٢١
فرجعوا الى انفسهم فقالوا انكم انتم الظالمون ٦٤
فَرَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ فَقَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ أَنتُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٦٤
فَرَجَعُوٓاْ
إِلَىٰٓ
أَنفُسِهِمۡ
فَقَالُوٓاْ
إِنَّكُمۡ
أَنتُمُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
٦٤
فأُسقِط في أيديهم، وبدا لهم ضلالهم; كيف يعبدونها، وهي عاجزة عن أن تدفع عن نفسها شيئًا أو أن تجيب سائلها؟ وأقرُّوا على أنفسهم بالظلم والشرك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

فرجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکم انتم الظلمون (46) ” یہ ان کے اندر ایک اچھی سوچ کا آغاز تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے موقف میں بنیادی کمزوری ہے۔ وہ جو بتوں اور مورتیوں کی پوجا کررہے ہیں یہ دراصل ظلم ہے۔ پہلی مرتبہ یوں لگتا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ جس راہ پر وہ بغیر سوچے سمجھے چل رہے ہیں وہ بہت ہی غلط ہے۔

لیکن یہ ان کے فکر و نظر کی دنیا میں ایک چمک ہی تھی۔ اندھیرا حسب سابق پھر غالب آگیا۔ ان کے مردہ دلوں کے اندر ایک دھڑکن سی پیداہوئی مگر جلد ہی وہ پھر خاموش ہو کر جمود کا شکار ہوگئے۔