تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنبياء ٩٩:٢١

٩٩:٢١
لو كان هاولاء الهة ما وردوها وكل فيها خالدون ٩٩
لَوْ كَانَ هَـٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةًۭ مَّا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّۭ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٩٩
لَوۡ
كَانَ
هَٰٓؤُلَآءِ
ءَالِهَةٗ
مَّا
وَرَدُوهَاۖ
وَكُلّٞ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
٩٩
لو كان هؤلاء الذين عبدتموهم من دون الله تعالى آلهة تستحق العبادة ما دخلوا نار جهنم معكم أيها المشركون، إنَّ كلا من العابدين والمعبودين خالدون في نار جهنم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 21:98إلى 21:100

انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98)

ترجمہ :۔

” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔

لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ “ یہ منظر ان کے سامنے تو قرآن اس دنیا میں پیش کر رہا ہے ، لیکن اس طرح کہ گویا یہ منظر ہو کر گزر گیا ہے۔ وہ عملاً جہنم کے دھانے تک پہنچ گئے اور وہاں ڈال دیئے گئے تو اب جہنم میں ان کا جو حال ہے ، وہ پیش کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح کہ جس طرح کوئی عملاً ایسے حالات میں پڑا ہو۔

وکل فیھا خلدون (21 : 99) لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون (21 : 100) ” اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان بڑی آواز نہ سنائی دے گی۔ “ اب ذرا ان کو یہاں ہی چھوڑیئے اور آیئے دیکھیں مومنین کا حال کیسا ہے۔ ان کے حق میں تو فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ کامیابی اور نجات ان کا مقصدر ہوچکی ہے۔