تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنفال ١٤:٨

١٤:٨
ذالكم فذوقوه وان للكافرين عذاب النار ١٤
ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٤
ذَٰلِكُمۡ
فَذُوقُوهُ
وَأَنَّ
لِلۡكَٰفِرِينَ
عَذَابَ
ٱلنَّارِ
١٤
ذلكم العذاب الذي عجَّلته لكم -أيها الكافرون المخالفون لأوامر الله ورسوله في الدنيا- فذوقوه في الحياة الدنيا، ولكم في الآخرة عذاب النار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اس منطر کے آخر میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے کہ یہ رعب اور پھر یہ ہزیمت جو تمہیں اس دنیا میں اٹھانی پڑی اس پر یہ بات ختم نہیں ہوگئی ہے کیونکہ یہ دین ، اس کا قیام اور اس کی جماعت صرف اس مختصر سے زمانہ دنیا پر ختم ہوجانے والا معاملہ ہی نہٰں ہے۔ یہ معاملہ اس دنیا اور اس کائنات سے بہت آگے تک جاتا ہے۔ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی پر بھی اس کے اثرات ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ” ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ : یہ ہے تم لوگوں کی سزا ، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے “۔ یہ ہوگا اصلی انجام اور یہ عذاب اس عذاب سے بہت ہی مختلف قسم کا اور زیادہ ہوگا جو تمہیں مرعوب کرکے اور تمہاری گردنوں پر اور جوڑوں پر ضربات لگا کر تمہیں دیا گیا۔

۔۔۔۔

جنگ بدر کے واقعات اور حالات کی منظر کشی کے بعد اور یہ دکھانے کے بعد کہ اس کے پس منطر میں دست قدرت کام کر رہا تھا اور اللہ کی معاونت اور امداد اس میں شامل تھی اور یہ جان لینے کے بعد کہ مسلمان کو اس پوری تگ و دو میں دست قدرت کے لیے ایک پردہ تھے ، کیونکہ اللہ ہی نے رسول کو گھر سے نکالا۔ یہ محض نمائش قوت کے لیے نہ نکلے تھے اور نہ ہی مظالم کے لیے نکلے تھے ، یہ اللہ ہی نے فیصلہ کیا کہ دو گروہوں میں سے کون سا گروہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور وہی ہے جس نے مجرموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تاکہ حق ، حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہ کرتے تھے اور یہ اللہ ہی تھا جس نے ان کی مدد کے لیے وہ فرشتے بھیجے جو لگاتار آ رہے تھے۔ پھر وہ اللہ ہی تھا جس نے ان پر غنودگی طاری کردی تھی اور آسمانوں سے ان پر پانی اتارا تاکہ ان کو پاک کردے اور ان کو شیطانی نجاست سے پاک کردے ان کے دلوں کو مطمئن کردے اور قدم مضبوط کردے۔ اور یہ اللہ ہی تھا کہ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے قدم مضبوط کردیں ، اور کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں اور وہ اللہ ہی تھا جس نے اس معرکے میں فرشتوں کو شریک کیا۔ ان کو حکم دیا کہ ان کی گردنوں پر ضربات لگاؤ اور ان کے جوڑوں میں چوٹیں لگاؤ اور پھر اللہ ہی تھا جس نے ان کو اموال غنیمت عطا کیے حالانکہ جب وہ گھر سے نکلے تھے تو ان کے پاس نہ مال تھا اور نہ سازوسامان تھا۔