تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنفال ٦٦:٨

٦٦:٨
الان خفف الله عنكم وعلم ان فيكم ضعفا فان يكن منكم ماية صابرة يغلبوا مايتين وان يكن منكم الف يغلبوا الفين باذن الله والله مع الصابرين ٦٦
ٱلْـَٔـٰنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ ٦٦
ٱلۡـَٰٔنَ
خَفَّفَ
ٱللَّهُ
عَنكُمۡ
وَعَلِمَ
أَنَّ
فِيكُمۡ
ضَعۡفٗاۚ
فَإِن
يَكُن
مِّنكُم
مِّاْئَةٞ
صَابِرَةٞ
يَغۡلِبُواْ
مِاْئَتَيۡنِۚ
وَإِن
يَكُن
مِّنكُمۡ
أَلۡفٞ
يَغۡلِبُوٓاْ
أَلۡفَيۡنِ
بِإِذۡنِ
ٱللَّهِۗ
وَٱللَّهُ
مَعَ
ٱلصَّٰبِرِينَ
٦٦
الآن خفف الله عنكم أيها المؤمنون لما فيكم من الضعف، فإن يكن منكم مائة صابرة يغلبوا مائتين من الكافرين، وإن يكن منكم ألف يغلبوا ألفين منهم بإذن الله تعالى. والله مع الصابرين بتأييده ونصره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

بعض فقہاء اور مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ قوی ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دس سے بھی نہ بھاگے گا اور اگر ضعیف ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دو سے نہ بھاگے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اختلافات ہیں جن کی تفصیل یہاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ناپ و تول کے جو پیمانے ہیں ، ان میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی قوت کا یہ حقیقی موازنہ ہے اور یہ حق ہے اور یہاں اللہ اہل ایمان کو یہ بتلانا چاہتا ہے تم اپنی قوت کا ذرا اچھی طرح اندازہ کرلو ، اپنے آپ کو کم نہ سمجھو اور اطمینان رکھو۔ اور اپنے قدموں کو میدان کارزار میں مضبوطی سے جما دو ، یہ موازنہ کوئی قانونی موازنہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی موازنہ ہے۔