تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأعراف ١٠١:٧

١٠١:٧
تلك القرى نقص عليك من انبايها ولقد جاءتهم رسلهم بالبينات فما كانوا ليومنوا بما كذبوا من قبل كذالك يطبع الله على قلوب الكافرين ١٠١
تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ١٠١
تِلۡكَ
ٱلۡقُرَىٰ
نَقُصُّ
عَلَيۡكَ
مِنۡ
أَنۢبَآئِهَاۚ
وَلَقَدۡ
جَآءَتۡهُمۡ
رُسُلُهُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ
فَمَا
كَانُواْ
لِيُؤۡمِنُواْ
بِمَا
كَذَّبُواْ
مِن
قَبۡلُۚ
كَذَٰلِكَ
يَطۡبَعُ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
قُلُوبِ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
١٠١
تلك القرى التي تَقَدَّم ذِكْرُها، وهي قرى قوم نوح وهود وصالح ولوط وشعيب، نقصُّ عليك -أيها الرسول- من أخبارها، وما كان من أَمْر رسل الله التي أرسلت إليهم، ما يحصل به عبرة للمعتبرين وازدجار للظالمين. ولقد جاءت أهلَ القرى رسلنا بالحجج البينات على صدقهم، فما كانوا ليؤمنوا بما جاءتهم به الرسل; بسبب طغيانهم وتكذيبهم بالحق، ومثل خَتْمِ الله على قلوب هؤلاء الكافرين المذكورين يختم الله على قلوب الكافرين بمحمد صلى الله عليه وسلم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔

وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی فطرت مر چکی تھی ، وہ متاثر ہی نہ ہوتے تھے ، لہذا وہ دعوت کو قبول ہی نہ کرتے تھے۔ جب ان کے دل دلائل ایمان کی طرف متوجہ ہی نہ تھے اور ہدایت کے اشارات ان تک پہنچ ہی نہ پا رہے تھے تو اللہ نے بھی انہیں اس حال پر چھوڑ کر ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے لئے قبولیت حق کے تمام راستے بند ہوگئے۔

كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ " دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں "۔ یہ مزاج ان میں سے اکثریت کا تھا۔