تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأعراف ١٥٤:٧

١٥٤:٧
ولما سكت عن موسى الغضب اخذ الالواح وفي نسختها هدى ورحمة للذين هم لربهم يرهبون ١٥٤
وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ ١٥٤
وَلَمَّا
سَكَتَ
عَن
مُّوسَى
ٱلۡغَضَبُ
أَخَذَ
ٱلۡأَلۡوَاحَۖ
وَفِي
نُسۡخَتِهَا
هُدٗى
وَرَحۡمَةٞ
لِّلَّذِينَ
هُمۡ
لِرَبِّهِمۡ
يَرۡهَبُونَ
١٥٤
ولما سكن عن موسى غضبه أخذ الألواح بعد أن ألقاها على الأرض، وفيها بيان للحق ورحمة للذين يخافون الله، ويخشون عقابه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

غرض یہ تو ایک وقفہ اور لمحہ فکریہ تھا تاکہ بچھڑنے کو الہ بنانے والوں کے انجام پر قدرے غور کرایا جائے اب سابقہ منظر ہی اختتام کو یوں پہنچتا ہے۔

وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ۔ پھر جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں

قرآن کا ذرا انداز تعبیر ملاحظہ ہو " گویا غضب اور غصہ ایک شخصی چیز ہے ، جس نے حضرت موسیٰ پر تسلط حاصل کرلیا ہے اور اپنی مرضی سے ان کو چلاتا ہے اور حرکت میں لاتا ہے۔ اور جب یہ خاموش ہوگیا اور حضرت موسیٰ کو اس نے آزاد چھوڑ دیتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے اختیار میں آگئے۔ غصے کی وجہ سے جو تختیاں انہوں پھینک دی تھیں۔ وہ دوبارہ ہاتھ میں لے لیں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ ان تختیوں میں اللہ کی ہدایات تھیں۔ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے تھے ان کے لیے یہ رحمت تھیں ان کے دل راہ راست پر آنے کے لیے کھل گئے تھے۔ اور انہوں نے اللہ کی رحمتوں سے دامن بھر لیے تھے۔ اور ایک گمراہ اور بےراہ شخص سے اور کون بدبخت ہوگا جو اپنے سامنے کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور اس روح سے اور کوئی بدبخت نہیں ہے جو ماری ماری پھرتی ہے اور جسے نہ کوئی صحیح راہ نظر آتی اور نہ اسے دولت یقین ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ اور خدا خوفی ہی وہ صفت ہے جس سے دل کھلتے ہیں اور جس سے غفلت دور ہوتی ہے اور انسان راہ راست پر آتا ہے اور حق کو قبول کرتا ہے۔ اللہ ان ربوں کا خالق ہے۔ اور وہی اس حقیقت کا فیصلہ اور اعلان کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ دلوں کا حال رب العالمین سے زیادہ اور کوئی نہیں جانتا۔