تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأعراف ٩٣:٧

٩٣:٧
فتولى عنهم وقال يا قوم لقد ابلغتكم رسالات ربي ونصحت لكم فكيف اسى على قوم كافرين ٩٣
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍۢ كَـٰفِرِينَ ٩٣
فَتَوَلَّىٰ
عَنۡهُمۡ
وَقَالَ
يَٰقَوۡمِ
لَقَدۡ
أَبۡلَغۡتُكُمۡ
رِسَٰلَٰتِ
رَبِّي
وَنَصَحۡتُ
لَكُمۡۖ
فَكَيۡفَ
ءَاسَىٰ
عَلَىٰ
قَوۡمٖ
كَٰفِرِينَ
٩٣
فأعرض شعيب عنهم حينما أيقن بحلول العذاب بهم، وقال: يا قوم لقد أبلغتكم رسالات ربي، ونصحت لكم بالدخول في دين الله والإقلاع عما أنتم عليه، فلم تسمعوا ولم تطيعوا، فكيف أحزن على قوم جحدوا وحدانية الله وكذبوا رسله؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْْفَ آسَی عَلَی قَوْمٍ کَافِرِیْنَ (93)

اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔ “

اس لئے کہ وہ ایک ملت ہے اور یہ لوگ دوسری ملت ہیں ۔ اہل ایمان ایک قوم ہیں اور وہ دوسری قوم ہیں ۔ رہا سلسلہ نسب اور قوم تو اس دین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ یہاں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس دین میں واحد رابطہ عقیدہ ونظریہ ہے اور اسی پر اتحاد وانفعال کا مدار ہے۔