تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ١٧٢:٢

١٧٢:٢
يا ايها الذين امنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم واشكروا لله ان كنتم اياه تعبدون ١٧٢
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ١٧٢
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
كُلُواْ
مِن
طَيِّبَٰتِ
مَا
رَزَقۡنَٰكُمۡ
وَٱشۡكُرُواْ
لِلَّهِ
إِن
كُنتُمۡ
إِيَّاهُ
تَعۡبُدُونَ
١٧٢
يا أيها المؤمنون كلوا من الأطعمة المستلَذَّة الحلال التي رزقناكم، ولا تكونوا كالكفار الذين يحرمون الطيبات، ويستحِلُّون الخبائث، واشكروا لله نعمه العظيمة عليكم بقلوبكم وألسنتكم وجوارحكم، إن كنتم حقًا منقادين لأمره، سامعين مطيعين له، تعبدونه وحده لا شريك له.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہاں مسلمانوں کو ” اے ایمان والو “ کے الفاظ سے پکارا گیا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان ہی اہل اسلام کے درمیان مضبوط رابطہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں ہی ماخذ قانون ہوں اس لئے قانون مجھ سے اخذ کرو ۔ مجھ سے ہی حلال و حرام کے احکام اخذ کرو ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں نے تم پر جو انعامات کئے ہیں انہیں یاد رکھو ۔ میں ہی تمہارا رازق ہوں اور میں نے ہی تمہارے لئے کھانے پینے کی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ۔ پاکیزہ چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی حرام نہیں قرار دیا گیا۔ جو چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ اس لئے حرام نہیں کہ اللہ تم پر تنگی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ پاک اور طیب نہیں ہیں ۔ وہی تو ہے جو ابتدائے آفرینش سے تمہیں رزق دے رہا ہے ۔ پھر تلقین ہوتی ہے کہ اگر وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی چاہتے ہیں تو پھر اس کا شکر ادا کریں ۔ چکر بھی عبادت اور بندگی کی ایک قسم ہے ۔ اور اللہ شکر ادا کرنے سے بہت راضی ہوتا ہے ۔ یہ تمام ہدایات اس آیت میں دے دی گئی ، جو چند کلمات پر مشتمل ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ” ایمان لانے والوں اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ “