تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البروج ١:٨٥

١:٨٥
والسماء ذات البروج ١
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْبُرُوجِ ١
وَٱلسَّمَآءِ
ذَاتِ
ٱلۡبُرُوجِ
١
أقسم الله تعالى بالسماء ذات المنازل التي تمر بها الشمس والقمر، وبيوم القيامة الذي وعد الله الخلق أن يجمعهم فيه، وشاهد يشهد، ومشهود يشهد عليه. ويقسم الله -سبحانه- بما يشاء من مخلوقاته، أما المخلوق فلا يجوز له أن يقسم بغير الله، فإن القسم بغير الله شرك - لُعن الذين شَقُّوا في الأرض شقًا عظيمًا؛ لتعذيب المؤمنين، وأوقدوا النار الشديدة ذات الوَقود، إذ هم قعود على الأخدود ملازمون له، وهم على ما يفعلون بالمؤمنين من تنكيل وتعذيب حضورٌ. وما أخذوهم بمثل هذا العقاب الشديد إلا أن كانوا مؤمنين بالله العزيز الذي لا يغالَب، الحميد في أقواله وأفعاله وأوصافه، الذي له ملك السماوات والأرض، وهو -سبحانه- على كل شيء شهيد، لا يخفى عليه شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

واقعہ اصحاب الاخدود کی طرف آنے سے قبل سورت کا آغاز اس قسم سے ہوتا ہے ” قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی “۔” بروج “ سے مراد یا تو عظیم الجثہ اجرام فلکی ہیں ، گویا وہ آسمانوں کے عظیم الشان قلعے ہیں ، سورة ذاریات میں کہا گیا۔

والسماء .................... لموسعون (47:79) ” اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم بہت وسعت دینے والے ہیں “۔ اور سورة نازعات میں فرمایا :

ءانتم .................... بنھا (27:79) ” کیا تخلیق کے لحاظ سے تم مضبوط ہو یا آسمان جسے ہم نے بنایا “۔ اور یا بروج سے مراد وہ منزلیں ہیں جن کے اندر یہ اجرام گردش کرتے ہیں یعنی جب یہ اجرام اپنے ایک مدار کے اندر گردش کرتے ہیں اور اس سے سرموتجاوز نہیں کرسکتے اور بروج کے لفظ سے ان کی ضخامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، یہاں اس سورت کی فضا پر ضخامت کا سایہ ڈالنا مقصود ہے۔