تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الفرقان ٢٧:٢٥

٢٧:٢٥
ويوم يعض الظالم على يديه يقول يا ليتني اتخذت مع الرسول سبيلا ٢٧
وَيَوْمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى ٱتَّخَذْتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلًۭا ٢٧
وَيَوۡمَ
يَعَضُّ
ٱلظَّالِمُ
عَلَىٰ
يَدَيۡهِ
يَقُولُ
يَٰلَيۡتَنِي
ٱتَّخَذۡتُ
مَعَ
ٱلرَّسُولِ
سَبِيلٗا
٢٧
واذكر - أيها الرسول - يوم يَعَضُّ الظالم لنفسه على يديه ندمًا وتحسرًا قائلا يا ليتني صاحبت رسول الله محمدًا صلى الله عليه وسلم واتبعته في اتخاذ الإسلام طريقًا إلى الجنة، ويتحسَّر قائلا يا ليتني لم أتخذ الكافر فلانًا صديقًا أتبعه وأوده. لقد أضلَّني هذا الصديق عن القرآن بعد إذ جاءني. وكان الشيطان الرجيم خذولا للإنسان دائمًا. وفي هذه الآيات التحذير من مصاحبة قرين السوء؛ فإنه قد يكون سببًا لإدخال قرينه النار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 25:25إلى 25:31

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔

جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔