تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الفرقان ٦٨:٢٥

٦٨:٢٥
والذين لا يدعون مع الله الاها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذالك يلق اثاما ٦٨
وَٱلَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًۭا ٦٨
وَٱلَّذِينَ
لَا
يَدۡعُونَ
مَعَ
ٱللَّهِ
إِلَٰهًا
ءَاخَرَ
وَلَا
يَقۡتُلُونَ
ٱلنَّفۡسَ
ٱلَّتِي
حَرَّمَ
ٱللَّهُ
إِلَّا
بِٱلۡحَقِّ
وَلَا
يَزۡنُونَۚ
وَمَن
يَفۡعَلۡ
ذَٰلِكَ
يَلۡقَ
أَثَامٗا
٦٨
والذين يوحدون الله، ولا يدعون ولا يعبدون إلهًا غيره، ولا يقتلون النفس التي حرَّم الله قتلها إلا بما يحق قتلها به: من كفر بعد إيمان، أو زنى بعد زواج، أو قتل نفس عدوانًا، ولا يزنون، بل يحفظون فروجهم، إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم، ومن يفعل شيئًا من هذه الكبائر يَلْقَ في الآخرة عقابًا. يُضاعَفْ له العذاب يوم القيامة، ويَخْلُدْ فيه ذليلا حقيرًا. (والوعيد بالخلود لمن فعلها كلَّها، أو لمن أشرك بالله) . لكن مَن تاب مِن هذه الذنوب توبة نصوحًا وآمن إيمانًا جازمًا مقرونًا بالعمل الصالح، فأولئك يمحو الله عنهم سيئاتهم ويجعل مكانها حسنات؛ بسبب توبتهم وندمهم. وكان الله غفورًا لمن تاب، رحيمًا بعباده حيث دعاهم إلى التوبة بعد مبارزته بأكبر المعاصي. ومن تاب عمَّا ارتكب من الذنوب، وعمل عملا صالحا فإنه بذلك يرجع إلى الله رجوعًا صحيحًا، فيقبل الله توبته ويكفر ذنوبه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

والذین ……الی اللہ متاباً (71)

خدا کو وحدہ لاشریک جاننا اسلامی نظریہ حیات کی اساس ہے۔ عقیدہ توحید نہایت واضح ، سیدھا اور سادہ عقیدہ ہے۔ اور اس کے مقابلے میں جس قدر عقائد ہیں وہ پیچیدہ ، ٹیڑھے اور ناقابل فہم عقید ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات پر جس طرح ایک صحیح نظام زندگی قائم ہوتا ہے اسی طرح دوسرے عقائد پر کوئی سیدھا اور صالح نظام زندگی قائم ہی نہیں ہو سکتا۔

کسی جاندار کو ناحق نہ قتل کرنا اور سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کو پرسکون ، پرامن اور مطمئنبنانا اسلامی اور انسانی زندگی کا طرہامتیاز ہوتا ہے ، جبکہ قتل و غارت اور لوٹ مار جنگل کی زندگی کا خاصہ ہوتا ہے اور کوئی ایسی سوسائٹی جس میں ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہو اور لوٹ مار عام ہو ، اسے نہ انسانی سوسائٹی کہا جاسکتا ہے اور نہ ایسی سوسائٹی میں کوئی ترقیاتی کام ہو سکات ہے۔ اس لئے اسلام قتل نفس کو بہت بڑا جرم قرار دیتا ہے۔

اسی طرح اسلام زنا کو گھنائونا جرم قرار دیات ہے اور اسے جرم قرار دے کر ہی دو قسم کی زندگیوں کے راستے جدا کئے جاسکتے ہیں۔ ایک ایسی زندگی ہے جس میں ایک شخص اپنے آپ کو ایک حیوان جیسی غلیظ جنسی خواہش سے ذرا بلند کردیتا ہے اور وہ یہ یقین کرلیتا ہے کہ جنس آخر سے اس کے ماپ کا ایک اعلیٰ وارفع مقصد مقرر کیا گیا ہے۔ یہ محض لذت کوشی اور گری ہوئی غلیظ حیوانی زندگی کا ملاپ نہیں ہے ، جو ایک نر اور مادے کے درمیان ہوتا ہے اور جس کے اندر محض جسمانی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔

غرض یہ تین صفات وہ صفات ہیں جو ایک انسانی اور شریفانہ زندگی اور ایک عام حیوانی اور گری ہوئی وحشیانہ زندگی کے درمیان حدود و امتیاز پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے عباد الرحمٰن کی صفات و نشانات کے اندر ان تینوں صفات کو داخل کیا ہے ۔ کیونکہ عباد الرحمٰن اللہ کے نزدیک اعلیٰ وارفع مخلوق ہے اور ان کے نزدیک یہ نہایت ہی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان صفات کے بعد یہ تہدید آتی ہے۔

ومن یفعل ذلک یلق اثاما (25 : 68) ” یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہوں کا بدلہ پائے گا۔ “

اثام کا مفہوم یہاں عذاب ہے۔ اس عذاب کی تشریح پھر یوں کی گئی ہے۔