تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحديد ٢٢:٥٧

٢٢:٥٧
ما اصاب من مصيبة في الارض ولا في انفسكم الا في كتاب من قبل ان نبراها ان ذالك على الله يسير ٢٢
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ ٢٢
مَآ
أَصَابَ
مِن
مُّصِيبَةٖ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَلَا
فِيٓ
أَنفُسِكُمۡ
إِلَّا
فِي
كِتَٰبٖ
مِّن
قَبۡلِ
أَن
نَّبۡرَأَهَآۚ
إِنَّ
ذَٰلِكَ
عَلَى
ٱللَّهِ
يَسِيرٞ
٢٢
ما أصابكم -أيها الناس- من مصيبة في الأرض ولا في أنفسكم من الأمراض والجوع والأسقام إلا هو مكتوب في اللوح المحفوظ من قبل أن تُخْلَق الخليقة. إن ذلك على الله تعالى يسير.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 57:22إلى 57:24

دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا دونوں امتحان کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مقرر فرما دیا ہے کہ کس شخص کو اس کے امتحان کا پر چہ کن کن صورتوں میں دیا جائے گا۔ آدمی کو اصلاً جس چیز پر توجہ دینا چاہيے وہ یہ نہیں کہ اس کو کیا ملا اور اس سے کیا چھینا گیا بلکہ یہ کہ اس نے کس موقع پر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ صحیح اور مطلوب رد عمل یہ ہے کہ آدمی سے کھویا جائے تو وہ دل برداشتہ نہ ہو اور جب اس کو ملے تو وہ اس کی بنا پر فخر و غرور میں مبتلا نہ ہوجائے۔