تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحج ٢٧:٢٢

٢٧:٢٢
واذن في الناس بالحج ياتوك رجالا وعلى كل ضامر ياتين من كل فج عميق ٢٧
وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِٱلْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًۭا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍۢ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍۢ ٢٧
وَأَذِّن
فِي
ٱلنَّاسِ
بِٱلۡحَجِّ
يَأۡتُوكَ
رِجَالٗا
وَعَلَىٰ
كُلِّ
ضَامِرٖ
يَأۡتِينَ
مِن
كُلِّ
فَجٍّ
عَمِيقٖ
٢٧
وأعلِمْ -يا إبراهيم- الناس بوجوب الحج عليهم يأتوك على مختلف أحوالهم مشاةً وركبانًا على كل ضامر من الإبل، وهو: (الخفيف اللحم من السَّيْر والأعمال لا من الهُزال) ، يأتين من كل طريق بعيد; ليحضروا منافع لهم من: مغفرة ذنوبهم، وثواب أداء نسكهم وطاعتهم، وتكَسُّبِهم في تجاراتهم، وغير ذلك؛ وليذكروا اسم الله على ذَبْح ما يتقربون به من الإبل والبقر والغنم في أيام معيَّنة هي: عاشر ذي الحجة وثلاثة أيام بعده; شكرًا لله على نعمه، وهم مأمورون أن يأكلوا مِن هذه الذبائح استحبابًا، ويُطعموا منها الفقير الذي اشتد فقره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 22:27إلى 22:29

کعبہ کی تعمیر كا ابتدائی مقصد ان لوگوں کے ليے مرکز عبادت فراہم کرنا تھا، جو ’’پیدل‘‘ چل کر وہاں پہنچنے کی مسافت پر ہوں۔ مگر بالآخر اس کو سارے عالم کے ليے ایک خدا کی عبادت کا مرکز بننا تھا۔ اور یہ مقصد پوری طرح حاصل ہوا۔ یہاں پہنچ کر حاجی جو مناسک اور مراسم ادا کرتا ہے، قرآن میں اس کا مختصراً بیان ہے اور احادیث میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔

’’تاکہ اپنے فائدوں کے لیے حاضر ہوں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ دین کے فوائد جن کو وہ اعتقادی طورپر مانتے ہیں ان کو یہاں عملی طورپر دیکھیں۔ حج کے ليے آدمی جن مقامات پر حاضر ہوتا ہے ان سے دین خداوندی کی عظیم تاریخ وابستہ ہے۔ اس بنا پر وہاں جانا اور ان کو دیکھنا دلوں کو پگھلانے کا سبب بنتا ہے۔ وہاں ساری دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ اس طرح وہاں اسلام کی بین اقوامی وسعت کھلی آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ حج کا سالانہ اجتماع مسلمانوں کے اندر عالمی سطح پر اجتماعیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ آدمی کو اس سفر سے بہت سے دینی اور دنیاوی تجربے حاصل ہوتے ہیں جو اس کے ليے زندگی کی تعمیرمیں مدد گار بنتے ہیں، وغیرہ۔