تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحشر ١٩:٥٩

١٩:٥٩
ولا تكونوا كالذين نسوا الله فانساهم انفسهم اولايك هم الفاسقون ١٩
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ١٩
وَلَا
تَكُونُواْ
كَٱلَّذِينَ
نَسُواْ
ٱللَّهَ
فَأَنسَىٰهُمۡ
أَنفُسَهُمۡۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡفَٰسِقُونَ
١٩
ولا تكونوا -أيها المؤمنون- كالذين تركوا أداء حق الله الذي أوجبه عليهم، فأنساهم بسبب ذلك حظوظ أنفسهم من الخيرات التي تنجيهم من عذاب يوم القيامة، أولئك هم الموصوفون بالفسق، الخارجون عن طاعة الله طاعة ورسوله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

کالذین ............ فانسھم (95 : 91) ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا “۔ یہ عجیب حالت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بھلا دے لیکن یہ ہے حقیقت۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کو بھلا دیتا ہے ، وہ اس دنیا میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح حیوان چرتے پھرتے ہیں۔ یوں وہ اپنی حیثیت انسانی کو بھلا دیتا ہے ، اور اس حقیقت سے پھر ایک دوسرے حقیقت لازم آتی ہے۔ وہ یوں کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر اپنی طویل زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں تیار کرتا۔ اور کل کے لئے اس کی کوئی تیاری نہیں ہوتی۔

اولئک ھم الفسقون (95 : 91) ” یہی لوگ فاسق ہیں “۔ یہ جادہ حق سے منحرف اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس لئے اگلی آیت میں آتا ہے کہ ایسے لوگ جہنمی ہیں۔ اور مومنین چونکہ اہل جنت ہیں اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کے راستے کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کریں کیونکہ دونوں کے راستے ہی جدا ہیں۔