تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحجر ٣٦:١٥

٣٦:١٥
قال رب فانظرني الى يوم يبعثون ٣٦
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ٣٦
قَالَ
رَبِّ
فَأَنظِرۡنِيٓ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
يُبۡعَثُونَ
٣٦
قال إبليس: رب أخِّرني في الدنيا إلى اليوم الذي تَبْعَث فيه عبادك، وهو يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 15:36إلى 15:38

آیت نمبر 36 تا 38

یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔