تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحجر ٧١:١٥

٧١:١٥
قال هاولاء بناتي ان كنتم فاعلين ٧١
قَالَ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ ٧١
قَالَ
هَٰٓؤُلَآءِ
بَنَاتِيٓ
إِن
كُنتُمۡ
فَٰعِلِينَ
٧١
قال لوط لهم: هؤلاء نساؤكم بناتي فتزوَّجوهن إن كنتم تريدون قضاء وطركم، وسماهن بناته؛ لأن نبي الأمة بمنزلة الأب لهم، ولا تفعلوا ما حرَّم الله عليكم من إتيان الرجال.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 71

حضرت لوط (علیہ السلام) ایک نبی تھے ، وہ اپنی حقیقی بیٹیاں ان اوباشوں کے سامنے پیش نہ کر رہے تھے تا کہ وہ ان کے ساتھ بدکاری کریں بلکہ وہ ان کو قوم کی خواتین کی طرف متوجہ کر رہے تھے کہ اللہ نے ان خواتین کو اس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور یہ فطری اور صحت مند راہ ہے۔ خود حضرت بھی جانتے تھے کہ ان کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ آپ کی بیٹیوں کے ساتھ بدکار کریں بلکہ انہوں نے تو فطری راہ کو چھوڑ کر بےراہ روی کی اپنائی ہوئی تھی۔

یہ منطر پیش نظر تھا ، قوم لوط اپنی مریضانہ ذہنیت کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ، اشاروں کنایوں میں برے ارادوں کا اظہار ہو رہا تھا ، ادھر حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے دفاع میں لگے ہوئے تھے ، وہ ان کی غیر خوابیدہ کو جگا رہے تھے۔ وہ ان کے ضمیر اور وجدان کو جگا رہے تھے اور ان میں فطرت سلیمہ کے رحجان کو تلاش کر رہے تھے جبکہ وہ اپنے سفلی ارادہ میں آگے ہی بڑھ رہے تھے۔

یہ منظر یوں ہی اسکرین پر تھا کہ اچانک خالص عربوں کے انداز میں لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کی اس کشمکش پر ایک تبصرہ آتا ہے اور خطاب قسم سے شروع ہوتا ہے :