تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحجر ٧٤:١٥

٧٤:١٥
فجعلنا عاليها سافلها وامطرنا عليهم حجارة من سجيل ٧٤
فَجَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍ ٧٤
فَجَعَلۡنَا
عَٰلِيَهَا
سَافِلَهَا
وَأَمۡطَرۡنَا
عَلَيۡهِمۡ
حِجَارَةٗ
مِّن
سِجِّيلٍ
٧٤
فقلبنا قُراهم فجعلنا عاليها سافلها، وأمطرنا عليهم حجارة من طين متصلب متين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 15:72إلى 15:77

قوم لوط کا یہ حال کیوں ہوا کہ وہ سرکشی میں آپے سے باہر ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے معاملہ کو حضرت لوط کی نسبت سے دیکھا۔ چونکہ وہ حضرت لوط کے مقابلہ میں طاقت ور تھے۔ اس لیے انھوں نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کریں، کوئی ہمارا کچھ بگاڑنے والا نہیں۔

اگر وہ معاملہ کو اللہ کی نسبت سے دیکھتے تو صورت حال بالکل برعکس ہوتی۔ اب ان کو معلوم ہوتا کہ ان کی سرکشی سراسر مضحکہ خیز ہے۔ کیوں کہ خداکے مقابلہ میں کسی بھی طاقت ور کی کوئی حیثیت نہیں۔ چنانچہ عین صبح کو ان پر کڑک چمک کا شدید طوفان آیا۔ خدا نے ہواؤں کوحکم دیا اور انھوں نے قوم لوط کی بستیوں (سدوم اور عمورہ) پر کنکریوں کی بارش شروع کردی۔ قوم کی قوم تھوڑی دیر میں تباہ ہو کر رہ گئی۔

اس واقعہ میں غور کرنے والوںکے لیے یہ نصیحت ہے کہ اس دنیا میں کسی کا سابقہ حقیقۃً انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جان لے تو اس کی ساری سرکشی ختم ہوجائے۔