تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإنفطار ١٥:٨٢

١٥:٨٢
يصلونها يوم الدين ١٥
يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ ١٥
يَصۡلَوۡنَهَا
يَوۡمَ
ٱلدِّينِ
١٥
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 82:1إلى 83:36

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔

جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔