تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإنفطار ١٨:٨٢

١٨:٨٢
ثم ما ادراك ما يوم الدين ١٨
ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ١٨
ثُمَّ
مَآ
أَدۡرَىٰكَ
مَا
يَوۡمُ
ٱلدِّينِ
١٨
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 82:17إلى 82:18

قرآن کے انداز تعبیر میں کسی مصیبت کو مجہول اور نامعلوم کرکے بیان کرنا ، ایک عمومی انداز ہے۔ اس انداز سے اس کی خوفناکیوں میں خوب اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ کہ انسانی تصور سے قیامت کی مصیبت ماوراء ہے۔ مصیبت اور خوف کا ہم جو بھی بھیانک تصور کرسکتے ہیں ، اس سے بھی وہ بڑھ کر ہے۔ پھر سوال کو دہرا کر اس خوفناکی میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔

سوال دہرانے کے بعد اس کے ایسے خدوخال بیان کردیئے جاتے ہیں جو اس کی خوفناکیوں کے ساتھ متناسب ہیں۔