تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإنشقاق ١٦:٨٤

١٦:٨٤
فلا اقسم بالشفق ١٦
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ ١٦
فَلَآ
أُقۡسِمُ
بِٱلشَّفَقِ
١٦
أقسم الله تعالى باحمرار الأفق عند الغروب، وبالليل وما جمع من الدواب والحشرات والهوام وغير ذلك، وبالقمر إذا تكامل نوره، لتركبُنَّ -أيها الناس- أطوارا متعددة وأحوالا متباينة: من النطفة إلى العلقة إلى المضغة إلى نفخ الروح إلى الموت إلى البعث والنشور. ولا يجوز للمخلوق أن يقسم بغير الله، ولو فعل ذلك لأشرك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہ چند مناظر ہیں ، قرآن کریم ان کی قسم کھا کر قلب انسانی کو ان کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان پر غور کرو ، اس طرح انسانی دل و دماغ کو اشارات اور تاثرات سے بھر دیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے یہ لمحات ایک خاص نوعیت رکھتے ہیں ، ان میں ایک طرف خشوع اور دھیما پن ہے اور دوسری طرف پر جلال ہیبت ہے۔ جس طرح سورت کا آغاز پر جلال دھیمے مناظر سے تھا ، یہ لمحات اور مناظر بھی ایسے ہی ہیں۔

شفق کا وقت وہ ہوتا ہے جس میں ہر چیز سہم جاتی ہے ، غروب کے بعد نفس انسانی پر بھی ایک گہری خاموشی اور خوف کے سائے پڑجاتے ہیں۔ انسانی سوچ ان کو الوداع کہتی ہے اور الوداع میں ہمیشہ خاموشی اور دکھ کے سائے ہوتے ہیں اور پھر رات کے خوفناک لمحات آتے ہیں ، جن میں اندھیروں کی وحشت ہوتی ہے۔ اور آخر کار رات کی تاریکیوں میں ہر چیز لپٹ کر خاموش ہوجاتی ہے ، اور ایک مہیب سکون کی فضا ہوتی ہے۔