تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإنشقاق ١٧:٨٤

١٧:٨٤
والليل وما وسق ١٧
وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ١٧
وَٱلَّيۡلِ
وَمَا
وَسَقَ
١٧
أقسم الله تعالى باحمرار الأفق عند الغروب، وبالليل وما جمع من الدواب والحشرات والهوام وغير ذلك، وبالقمر إذا تكامل نوره، لتركبُنَّ- أيها الناس- أطوارا متعددة وأحوالا متباينة: من النطفة إلى العلقة إلى المضغة إلى نفخ الروح إلى الموت إلى البعث والنشور. ولا يجوز للمخلوق أن يقسم بغير الله، ولو فعل ذلك لأشرك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

والیل وما وسق (17:84) ” اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے “۔ رات اور اس میں جو کچھ جمع ہوتا ہے ، اور جن چیزوں کو وہ اٹھالیتی ہے۔ نام لیے بغیر ہر معلوم ونامعلوم چیز جو رات کے پردے میں آجاتی ہے جو کچھ رات میں جمع ہوتا ہے ، جن چیزوں کو وہ سینے سے لگالیتی ہے۔ ان میں تمام چیزیں ، تمام زندہ مخلوق ، تمام جذبات اور تمام خفیہ جہان آجاتے ہیں۔ وہ تمام چیزیں جو زمین پر چلتی ہیں یا جو انسانی ضمیر میں خفیہ طور پر جاری وساری ہیں۔ غرض را ہوار خیال دور تک جاکر واپس ہوتا ہے اور انسانی فکر اور سوچ ان تمام مناظر کا احاطہ نہیں کرسکتی جو قرآن کے اس مختصر سے فقرے کا مدلول ہیں۔

والیل وما وسق (17:84) ” قسم ہے رات کی اور ان چیزوں کی جو وہ کچھ سمیٹ لیتی ہے “۔ جس سے انسانی شعور پر خضوع وخشوع اور خوفناک اور مہیب سکون کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور یہ حالت شغق اور رات کے چھانے کی حالت سے ہم آہنگ ہے۔