تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ١٠٦:١٧

١٠٦:١٧
وقرانا فرقناه لتقراه على الناس على مكث ونزلناه تنزيلا ١٠٦
وَقُرْءَانًۭا فَرَقْنَـٰهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍۢ وَنَزَّلْنَـٰهُ تَنزِيلًۭا ١٠٦
وَقُرۡءَانٗا
فَرَقۡنَٰهُ
لِتَقۡرَأَهُۥ
عَلَى
ٱلنَّاسِ
عَلَىٰ
مُكۡثٖ
وَنَزَّلۡنَٰهُ
تَنزِيلٗا
١٠٦
وأنزلنا إليك -أيها الرسول- قرآنًا بيَّناه وأحكمناه وفَصَّلناه فارقًا بين الهدى والضلال والحق والباطل؛ لتقرأه على الناس في تؤدة وتمهُّل، ونَزَّلْناه مفرَّقًا، شيئًا بعد شيء، على حسب الحوادث ومقتضيات الأحوال.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 17:105إلى 17:106

قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔

قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔