تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ١٠٨:١٧

١٠٨:١٧
ويقولون سبحان ربنا ان كان وعد ربنا لمفعولا ١٠٨
وَيَقُولُونَ سُبْحَـٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًۭا ١٠٨
وَيَقُولُونَ
سُبۡحَٰنَ
رَبِّنَآ
إِن
كَانَ
وَعۡدُ
رَبِّنَا
لَمَفۡعُولٗا
١٠٨
ويقول هؤلاء الذين أوتوا العلم عند سماع القرآن: تنزيهًا لربنا وتبرئة له مما يصفه المشركون به، ما كان وعد الله تعالى من ثواب وعقاب إلا واقعًا حقًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 17:107إلى 17:108

یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔

یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔

ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔