تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ٢٠:١٧

٢٠:١٧
كلا نمد هاولاء وهاولاء من عطاء ربك وما كان عطاء ربك محظورا ٢٠
كُلًّۭا نُّمِدُّ هَـٰٓؤُلَآءِ وَهَـٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا ٢٠
كُلّٗا
نُّمِدُّ
هَٰٓؤُلَآءِ
وَهَٰٓؤُلَآءِ
مِنۡ
عَطَآءِ
رَبِّكَۚ
وَمَا
كَانَ
عَطَآءُ
رَبِّكَ
مَحۡظُورًا
٢٠
كل فريق من العاملين للدنيا الفانية، والعاملين للآخرة الباقية نزيده مِن رزقنا، فنرزق المؤمنين والكافرين في الدنيا؛ فإن الرزق مِن عطاء ربك تفضلا منه، وما كان عطاء ربك ممنوعا من أحد مؤمنًا كان أم كافرًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

کلا نمد ھولاء وھولاء من عطاء ربک و ما کان عطاء ربک محظورا (71 : 2) ” ان کو بھی اور ان کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے “۔

لیکن زمین کے اندر ، اس دنیا میں بھی لوگوں کے درمیان حسب و درجات ، حسب وسائل اور حسب اسباب اور حسب میلانات و رحجانات اور مطابق سعی وجہد فرق مراتب ملحوظ ہے۔ کیونکہ دنیا کا دائرہ بھی محدود ہے ، اور یہ کرہ ارض بھی محدود ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آخرت وسیع ہے۔ وہاں کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ عالم آخرت ! اس کے کیا کہنے ، اس کے مقابلے میں یہ پوری دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔