تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ٩٣:١٧

٩٣:١٧
او يكون لك بيت من زخرف او ترقى في السماء ولن نومن لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقروه قل سبحان ربي هل كنت الا بشرا رسولا ٩٣
أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌۭ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِى ٱلسَّمَآءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَـٰبًۭا نَّقْرَؤُهُۥ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًۭا رَّسُولًۭا ٩٣
أَوۡ
يَكُونَ
لَكَ
بَيۡتٞ
مِّن
زُخۡرُفٍ
أَوۡ
تَرۡقَىٰ
فِي
ٱلسَّمَآءِ
وَلَن
نُّؤۡمِنَ
لِرُقِيِّكَ
حَتَّىٰ
تُنَزِّلَ
عَلَيۡنَا
كِتَٰبٗا
نَّقۡرَؤُهُۥۗ
قُلۡ
سُبۡحَانَ
رَبِّي
هَلۡ
كُنتُ
إِلَّا
بَشَرٗا
رَّسُولٗا
٩٣
أو يكون لك بيت من ذهب، أو تصعد في درج إلى السماء، ولن نصدِّقك في صعودك حتى تعود، ومعك كتاب من الله منشور نقرأ فيه أنك رسول الله حقا. قل -أيها الرسول- متعجبًا مِن تعنُّت هؤلاء الكفار: سبحان ربي!! هل أنا إلا عبد من عباده مبلِّغ رسالته؟ فكيف أقدر على فعل ما تطلبون؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قل سبحان ربی ھل کنت الا بسرا (39) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ “ یہ ہے ادب رسول ، جو اپنی بشریت کی حدود پر جا کر رک جاتے ہیں ، رسول اپنے مقررہ فرائض منصبی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے مطالبات نہیں کرتے۔ اور اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھ کر بھی کام نہیں کرتے۔

وہ بڑا شبہ جو مختلف اقوام و ملن کو حضرت محمد ﷺ سے قبل لاحق ہوا اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی کئی ملتوں کو لاحق ہوا اور جس کی وہ سے ان اقوام نے رسولوں کی تصدیق نہ کی اور ان ہدایات کو تسلیم نہ کیا جو رسول لے کر آئے تھے وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اس بات کو مستبعد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہوسکتا ہے اور یہ کہ رسول فرشتہ نہیں ہوتا۔