تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ٩٤:١٧

٩٤:١٧
وما منع الناس ان يومنوا اذ جاءهم الهدى الا ان قالوا ابعث الله بشرا رسولا ٩٤
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤْمِنُوٓا۟ إِذْ جَآءَهُمُ ٱلْهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرًۭا رَّسُولًۭا ٩٤
وَمَا
مَنَعَ
ٱلنَّاسَ
أَن
يُؤۡمِنُوٓاْ
إِذۡ
جَآءَهُمُ
ٱلۡهُدَىٰٓ
إِلَّآ
أَن
قَالُوٓاْ
أَبَعَثَ
ٱللَّهُ
بَشَرٗا
رَّسُولٗا
٩٤
وما منع الكفارَ من الإيمان بالله ورسوله وطاعتهما، حين جاءهم البيان الكافي من عند الله، إلا قولهم جهلا وإنكارًا: أبعث الله رسولا من جنس البشر؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

لوگوں کے درمیان یہ وہم اس لئے پھیلا کہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اللہ کے ہاں انسان کی انسانیت اور بشریت کی کیا قدر ہے۔ اس لئے انہوں نے اس بات کو مناسب نہ سمجھا کہ کوئی بشر اللہ کا رسول بن جائے۔ نیز انہوں نے اس کائنات کے مزاج اور فرشتوں کے مزاج اور نوعیت کے سمجھنے میں بھی غلطی کی۔ کیونکہ فرشتوں کو اللہ نے اس لئے پیدا ہی نہیں کیا کہ وہ کرہ ارض پر بسیں اور یہاں لوگ انہیں جانیں اور پہنچانیں اور وہ فرشتوں کی شکل میں ہوں۔