تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الجن ٢٥:٧٢

٢٥:٧٢
قل ان ادري اقريب ما توعدون ام يجعل له ربي امدا ٢٥
قُلْ إِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌۭ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُۥ رَبِّىٓ أَمَدًا ٢٥
قُلۡ
إِنۡ
أَدۡرِيٓ
أَقَرِيبٞ
مَّا
تُوعَدُونَ
أَمۡ
يَجۡعَلُ
لَهُۥ
رَبِّيٓ
أَمَدًا
٢٥
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: ما أدري أهذا العذاب الذي وُعدتم به قريب زمنه، أم يجعل له ربي مدة طويلة؟ وهو سبحانه عالم بما غاب عن الأبصار، فلا يظهر على غيبه أحدًا من خلقه، إلا من اختاره الله لرسالته وارتضاه، فإنه يُطلعهم على بعض الغيب، ويرسل من أمام الرسول ومن خلفه ملائكة يحفظونه من الجن; لئلا يسترقوه ويهمسوا به إلى الكهنة; ليعلم الرسول صلى الله عليه وسلم، أن الرسل قبله كانوا على مثل حاله من التبليغ بالحق والصدق، وأنه حُفظ كما حُفظوا من الجن، وأن الله سبحانه أحاط علمه بما عندهم ظاهرًا وباطنًا من الشرائع والأحكام وغيرها، لا يفوته منها شيء، وأنه تعالى أحصى كل شيء عددًا، فلم يَخْفَ عليه منه شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اب نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ طاقت کے علاوہ اپنے بارے میں علم غیب کی بھی نفی کردیں۔

قل ان .................... امدا (27 : 52) ” کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے “۔ دعوت کے معاملات میں آپ کا کوئی اختیار نہیں اور نہ اس میں آپ کا کوئی ذاتی حق ہے۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ تبلیغ کریں۔ اور اپنے آپ کو اس طرح محفوظ خطے میں داخل کردیں اور محفوظ خطے میں وہی شخص داخل ہوسکتا ہے جو تبلیغ کا حق ادا کردے۔ اور تکذیب اور نافرمانی پر اللہ جس برے انجام سے ڈراتا ہے وہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ آپ کو اس میں بھی دلی اختیار حاصل نہیں ہے۔ نہ آپ کو اس کا کوئی وقت وقوع معلوم ہے کہ وہ قریب ہے یا دور ہے ؟ یہ سب غیبی امور ہیں اور ان کے علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان امور کا علم اللہ کے لئے مخصوص ہے۔