تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ١:١٨

١:١٨
الحمد لله الذي انزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا ١
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ ٱلْكِتَـٰبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُۥ عِوَجَاۜ ١
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِ
ٱلَّذِيٓ
أَنزَلَ
عَلَىٰ
عَبۡدِهِ
ٱلۡكِتَٰبَ
وَلَمۡ
يَجۡعَل
لَّهُۥ
عِوَجَاۜ
١
الثناء على الله بصفاته التي كلُّها أوصاف كمال، وبنعمه الظاهرة والباطنة، الدينية والدنيوية، الذي تفضَّل فأنزل على عبده ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم القرآن، ولم يجعل فيه شيئًا من الميل عن الحق.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 17:110إلى 18:1

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔

ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔

جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔