تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ١٥:١٨

١٥:١٨
هاولاء قومنا اتخذوا من دونه الهة لولا ياتون عليهم بسلطان بين فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا ١٥
هَـٰٓؤُلَآءِ قَوْمُنَا ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةًۭ ۖ لَّوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِم بِسُلْطَـٰنٍۭ بَيِّنٍۢ ۖ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا ١٥
هَٰٓؤُلَآءِ
قَوۡمُنَا
ٱتَّخَذُواْ
مِن
دُونِهِۦٓ
ءَالِهَةٗۖ
لَّوۡلَا
يَأۡتُونَ
عَلَيۡهِم
بِسُلۡطَٰنِۭ
بَيِّنٖۖ
فَمَنۡ
أَظۡلَمُ
مِمَّنِ
ٱفۡتَرَىٰ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبٗا
١٥
ثم قال بعضهم لبعض: هؤلاء قومنا اتخذوا لهم آلهة غير الله، فهلا أتَوْا على عبادتهم لها بدليل واضح، فلا أحد أشد ظلمًا ممن اختلق على الله الكذب بنسبة الشريك إليه في عبادته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 18:13إلى 18:15

’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔

مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔