تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٣٤:١٨

٣٤:١٨
وكان له ثمر فقال لصاحبه وهو يحاوره انا اكثر منك مالا واعز نفرا ٣٤
وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٌۭ فَقَالَ لِصَـٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكْثَرُ مِنكَ مَالًۭا وَأَعَزُّ نَفَرًۭا ٣٤
وَكَانَ
لَهُۥ
ثَمَرٞ
فَقَالَ
لِصَٰحِبِهِۦ
وَهُوَ
يُحَاوِرُهُۥٓ
أَنَا۠
أَكۡثَرُ
مِنكَ
مَالٗا
وَأَعَزُّ
نَفَرٗا
٣٤
وكان لصاحب الحديقتين ثمر وأموال أخرى، فقال لصاحبه المؤمن، وهو يحاوره في الحديث -والغرور يملؤه-: أنا أكثر منك مالا وأعز أنصارًا وأعوانًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

پھر وہ اپنے اس رفیق کو لے کر ایک باغ میں پھرتا ہے۔ اس کا دل خوشی سے جوش میں آتا ہے۔ اب یہ سخت غرور کی حالت میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو اس نے پوری طرح بھلا دیا۔ اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لانا بھی ضروری ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آگیا کہ یہ باغات کبھی بھی نیست و نابود نہ ہوں۔ اس نے قیام قیامت کو بالکل بھلا دیا اور اس کا صاف صاف انکار کردیا۔ پھر اس نے قیام قیامت کا سرے سے انکار کردیا۔ چلو اگر قیامت قائم بھی ہوجائے تو وہاں بھی اس کے ساتھی ترجیحی سلو اور عزت کا معاملہ ہوگا۔ اس دنیا میں دو باغات کا مالک نہیں ہے ، لہٰذا لازمی ہے کہ وہاں بھی اسے یہ سہولتیں بہرحال حاصل ہوں۔