تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٥٤:١٨

٥٤:١٨
ولقد صرفنا في هاذا القران للناس من كل مثل وكان الانسان اكثر شيء جدلا ٥٤
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍۢ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ أَكْثَرَ شَىْءٍۢ جَدَلًۭا ٥٤
وَلَقَدۡ
صَرَّفۡنَا
فِي
هَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانِ
لِلنَّاسِ
مِن
كُلِّ
مَثَلٖۚ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
أَكۡثَرَ
شَيۡءٖ
جَدَلٗا
٥٤
ولقد وضَّحنا ونوَّعنا في هذا القرآن للناس أنواعًا كثيرة من الأمثال؛ ليتعظوا بها ويؤمنوا. وكان الإنسان أكثر المخلوقات خصومة وجدلا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قرآن مجید نے یہاں انسان کو ایک چیز کہا ہے اور یہ کہ وہ بڑی جھگڑا لو چیز ہے۔ چیز سے تعبیر اس لئے کیا گیا تاکہ انسان اپنے کبر و غرور سے ذرا نیچے اترے اور یہ سمجھے کہ وہ بھی اللہ کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور انسان تمام مخلوقات سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس کے باوجود کہ اللہ نے اس قرآن میں انسان کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی سعی کی اور مثالوں سے اسے سمجھایا۔

اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ کیوں ایمان نہ لائے ؟ وہ کیا شبہ تھا جو رکاوٹ بنا ؟ مختلف رسولوں کے زمانے میں اکث لوگ ایمان سے محروم رہے۔