تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٥٥:١٨

٥٥:١٨
وما منع الناس ان يومنوا اذ جاءهم الهدى ويستغفروا ربهم الا ان تاتيهم سنة الاولين او ياتيهم العذاب قبلا ٥٥
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤْمِنُوٓا۟ إِذْ جَآءَهُمُ ٱلْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّهُمْ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ ٱلْعَذَابُ قُبُلًۭا ٥٥
وَمَا
مَنَعَ
ٱلنَّاسَ
أَن
يُؤۡمِنُوٓاْ
إِذۡ
جَآءَهُمُ
ٱلۡهُدَىٰ
وَيَسۡتَغۡفِرُواْ
رَبَّهُمۡ
إِلَّآ
أَن
تَأۡتِيَهُمۡ
سُنَّةُ
ٱلۡأَوَّلِينَ
أَوۡ
يَأۡتِيَهُمُ
ٱلۡعَذَابُ
قُبُلٗا
٥٥
وما منع الناس من الإيمان -حين جاءهم الرسول محمد صلى الله عليه وسلم ومعه القرآن-، واستغفار ربهم طالبين عفوه عنهم، إلا تحدِّيهم للرسول، وطلبهم أن تصيبهم سنة الله في إهلاك السابقين عليهم، أو يصيبهم عذاب الله عِيانًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

حالانکہ ان لوگوں کے پاس اس قدر راہنمائی آچکی تھی جو اس کے لئے کافی تھی کہ وہ راہ ہدایت پر آجائیں۔ لیکن انہوں نے راہ ہدایت کو اس لئے قبول نہ کیا کہ وہ اس قسم کے عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جیسا کہ ان سے پہلے مکذبین پر آیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ وہ کیوں ایسا خوفناک مطالبہ کرتے تھے یا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ عذاب لے آئیں وہ دیکھ لیں اور اس وقت وہ ایمان لائیں گے۔

لیکن یہ دونوں کام رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل بنیں ہیں۔ کیونکہ مکذبین کے سامنے معجزے پیش کرنا ، پھر انکار کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا بھی رسولوں کے اختیار میں نہیں ہے جیسا کہ سابقہ رسولوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ یا معجزات کے علاوہ عذاب کا آجانا یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ رسولوں کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ وہ خوشخبری دیں اور ڈرائیں۔