تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٦١:١٨

٦١:١٨
فلما بلغا مجمع بينهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله في البحر سربا ٦١
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ سَرَبًۭا ٦١
فَلَمَّا
بَلَغَا
مَجۡمَعَ
بَيۡنِهِمَا
نَسِيَا
حُوتَهُمَا
فَٱتَّخَذَ
سَبِيلَهُۥ
فِي
ٱلۡبَحۡرِ
سَرَبٗا
٦١
وجَدَّا في السَّيْر، فلما وصلا ملتقى البحرين جلسا عند صخرة، ونسيا حوتهما الذي أُمر موسى بأخذه معه قوتًا لهما، وحمله يوشع في مِكْتَل، فإذا الحوت يصبح حيًّا وينحدر في البحر، ويتخذ له فيه طريقًا مفتوحًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 18:61إلى 18:63

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔