تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٧:١٨

٧:١٨
انا جعلنا ما على الارض زينة لها لنبلوهم ايهم احسن عملا ٧
إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى ٱلْأَرْضِ زِينَةًۭ لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ٧
إِنَّا
جَعَلۡنَا
مَا
عَلَى
ٱلۡأَرۡضِ
زِينَةٗ
لَّهَا
لِنَبۡلُوَهُمۡ
أَيُّهُمۡ
أَحۡسَنُ
عَمَلٗا
٧
إنَّا جعلنا ما على وجه الأرض من المخلوقات جَمالا لها، ومنفعة لأهلها؛ لنختبرهم: أيُّهم أحسن عملا بطاعتنا، وأيهم أسوأ عملا بالمعاصي، ونجزي كلا بما يستحق.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً (18 : 8) ” واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی سروسامان زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے “ ال لہ کو تو خوب معلوم ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ عملاً ان باتوں کا صدور ان سے ہوجائے اور ظاہر ہوجائے کہ زندگی میں کون ہے جو احسن رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہاں برے اعمال کرنے والوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے ، کیونکہ انداز کلام سے ان کے بارے میں مفہوم واضح ہے۔

اور دنیا کی اس زیب وزینت کا انجام بھی معلوم ہے۔ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ اس دنیا کی یہ سب رنگینیاں ختم ہوجائیں گی اور دنیا ایک چٹیل میدان ہوگی اور اس پر جو کچھ ہے سب نیست و نابود ہوگا ، انسان حیوانات و نباتات سب ختم ہوں گے۔ یہ دنیا خشک اور چٹیل میدان ہوگی۔