تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٨٦:١٨

٨٦:١٨
حتى اذا بلغ مغرب الشمس وجدها تغرب في عين حمية ووجد عندها قوما قلنا يا ذا القرنين اما ان تعذب واما ان تتخذ فيهم حسنا ٨٦
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ ٱلشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِى عَيْنٍ حَمِئَةٍۢ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًۭا ۗ قُلْنَا يَـٰذَا ٱلْقَرْنَيْنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًۭا ٨٦
حَتَّىٰٓ
إِذَا
بَلَغَ
مَغۡرِبَ
ٱلشَّمۡسِ
وَجَدَهَا
تَغۡرُبُ
فِي
عَيۡنٍ
حَمِئَةٖ
وَوَجَدَ
عِندَهَا
قَوۡمٗاۖ
قُلۡنَا
يَٰذَا
ٱلۡقَرۡنَيۡنِ
إِمَّآ
أَن
تُعَذِّبَ
وَإِمَّآ
أَن
تَتَّخِذَ
فِيهِمۡ
حُسۡنٗا
٨٦
حتى إذا وصل ذو القرنين إلى مغرب الشمس وجدها في مرأى العين كأنها تغرب في عين حارة ذات طين أسود، ووجد عند مغربها قومًا. قلنا: يا ذا القرنين إما أن تعذبهم بالقتل أو غيره، إن لم يقروا بتوحيد الله، وإما أن تحسن إليهم، فتعلمهم الهدى وتبصرهم الرشاد.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قلنا یذا القرنین اما ان تعذب واما ان تخذفیھم حسناً (81 : 68) ” ہم نے ہا اے ذوالقرنین ، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے۔ “ یہ بات اللہ نے ذوالقرنین کو کس انداز میں کہی یہ ان پر وحی تھی یا اس صورت حال کی حکایت تھی کیونکہ اللہ نے ذوالقرنین کو ان پر مسلط کردیا تھا۔ ان کے تمام معاملات اس کے اختیار میں دے دیئے تھے ، گویا لسان حال سے اس کو کہہ دیا کہ اب تم جانور اور وہ جانیں۔ تم حکمران ہو اور وہ رعایا۔ حکمران رعایا پر یا ظلم کرتا ہے یا احسان ، یہ دونوں انداز تعیر عربی میں درست ہیں اور یہاں دونوں ممکن ہیں۔ آیت کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور وہ بھی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے ممالک مفتوحہ کے بارے میں اپنی پالیسی کا یہ اعلان کردیا تھا۔ چاہے لوگ خود اس کے تابع فرمان ہوئے ہوں یا اس نے فتح کیے ہوں ، بہرحال اس کا دستور یہ تھا۔