تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٩:١٨

٩:١٨
ام حسبت ان اصحاب الكهف والرقيم كانوا من اياتنا عجبا ٩
أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَـٰبَ ٱلْكَهْفِ وَٱلرَّقِيمِ كَانُوا۟ مِنْ ءَايَـٰتِنَا عَجَبًا ٩
أَمۡ
حَسِبۡتَ
أَنَّ
أَصۡحَٰبَ
ٱلۡكَهۡفِ
وَٱلرَّقِيمِ
كَانُواْ
مِنۡ
ءَايَٰتِنَا
عَجَبًا
٩
لا تظن -أيها الرسول- أن قصة أصحاب الكهف واللوح الذي كُتِبت فيه أسماؤهم من آياتنا عجيبة وغريبة؛ فإن خلق السموات والأرض وما فيهما أعجب من ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 18:9إلى 18:12

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔

یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔