تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المائدة ١٠٧:٥

١٠٧:٥
فان عثر على انهما استحقا اثما فاخران يقومان مقامهما من الذين استحق عليهم الاوليان فيقسمان بالله لشهادتنا احق من شهادتهما وما اعتدينا انا اذا لمن الظالمين ١٠٧
فَإِنْ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسْتَحَقَّآ إِثْمًۭا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْأَوْلَيَـٰنِ فَيُقْسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَهَـٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَهَـٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعْتَدَيْنَآ إِنَّآ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٠٧
فَإِنۡ
عُثِرَ
عَلَىٰٓ
أَنَّهُمَا
ٱسۡتَحَقَّآ
إِثۡمٗا
فَـَٔاخَرَانِ
يَقُومَانِ
مَقَامَهُمَا
مِنَ
ٱلَّذِينَ
ٱسۡتَحَقَّ
عَلَيۡهِمُ
ٱلۡأَوۡلَيَٰنِ
فَيُقۡسِمَانِ
بِٱللَّهِ
لَشَهَٰدَتُنَآ
أَحَقُّ
مِن
شَهَٰدَتِهِمَا
وَمَا
ٱعۡتَدَيۡنَآ
إِنَّآ
إِذٗا
لَّمِنَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
١٠٧
فإن اطلع أولياء الميت على أن الشاهدين المذكورين قد أثما بالخيانة في الشهادة أو الوصية فليقم مقامهما في الشهادة اثنان من أولياء الميت فيقسمان بالله: لَشهادتنا الصادقة أولى بالقبول من شهادتهما الكاذبة، وما تجاوزنا الحق في شهادتنا، إنا إن اعتدينا وشهدنا بغير الحق لمن الظالمين المتجاوزين حدود الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:106إلى 5:108

ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتاہے۔ اب اگر وہ اپنے قریب دو مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے۔یہ دو صاحبان مال لاکر اس کو وارثوں کے حوالے کریں۔ اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہوجائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوںنے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا صحیح کہا۔ اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کردیا جائے۔ وارثوں کو یہ حق دینا گویا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔

شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام ديے جائیں جوآدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں۔ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی معاملہ ہے۔ مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیاگیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں، بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے، نہ یہ کہ بات کس کے موافق جارہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ ہر بات کو خدا کی گواہی سمجھنا۔ کوئی بات جو آدمی کے پاس ہے، وہ خدا کی امانت ہے۔ کیوں کہ آدمی نے اس کو خدا کی دی ہوئی آنکھ سے دیکھا اور خدا کے ديے ہوئے حافظہ میں اس کو محفوظ رکھا۔ اور اب خدا کی دی ہوئی زبان سے وہ اس کے متعلق اعلان کررہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ امانت میں خیانت ہوگی کہ آدمی بات کو اس طرح نہ بیان کرے جیسا کہ اس نے دیکھا اور جس طرح اس کے حافظہ نے اس کو محفوظ رکھا۔