تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المائدة ٦٠:٥

٦٠:٥
قل هل انبيكم بشر من ذالك مثوبة عند الله من لعنه الله وغضب عليه وجعل منهم القردة والخنازير وعبد الطاغوت اولايك شر مكانا واضل عن سواء السبيل ٦٠
قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّۢ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ ٱلْقِرَدَةَ وَٱلْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّـٰغُوتَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ ٦٠
قُلۡ
هَلۡ
أُنَبِّئُكُم
بِشَرّٖ
مِّن
ذَٰلِكَ
مَثُوبَةً
عِندَ
ٱللَّهِۚ
مَن
لَّعَنَهُ
ٱللَّهُ
وَغَضِبَ
عَلَيۡهِ
وَجَعَلَ
مِنۡهُمُ
ٱلۡقِرَدَةَ
وَٱلۡخَنَازِيرَ
وَعَبَدَ
ٱلطَّٰغُوتَۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
شَرّٞ
مَّكَانٗا
وَأَضَلُّ
عَن
سَوَآءِ
ٱلسَّبِيلِ
٦٠
قل -أيها النبي- للمؤمنين: هل أخبركم بمن يُجازَى يوم القيامة جزاءً أشدَّ مِن جزاء هؤلاء الفاسقين؟ إنهم أسلافهم الذين طردهم الله من رحمته وغَضِب عليهم، ومَسَخَ خَلْقهم، فجعل منهم القردة والخنازير، بعصيانهم وافترائهم وتكبرهم، كما كان منهم عُبَّاد الطاغوت (وهو كل ما عُبِد من دون الله وهو راضٍ) ، لقد ساء مكانهم في الآخرة، وضلَّ سَعْيُهم في الدنيا عن الطريق الصحيح.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:57إلى 5:60

وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔

ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔

وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔

انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔